Poetry
Note:This Poem Was Written When I Was Way More Young To be a Writer.

DAJJAL (دجال)

خود کو فِتنہ دجال سے بچا اے مومن

یہ ہے فِتنہ آخر اوز زمان کا اے مومن

ہر کسی نبی کا قول ہے یہ مومن

دور ے دجال فتنوں کا دور ہوگا مومن

صبح کو مومن شام کو کافر ہوگا

ایسے ہونگے فتنے کہ مومن یےخبر ہو نگے

دجال کسی قوم کا نام نہیں ہے مومن

ص کو دیکھ لے جسد کا نام موجود ہے مومن

جسد کو دیکھ کر سلیمان بولے رب غفلی

میری خلافت مجھتک ہی محدود رہے الٰہی

کہف ہے نُسخہ فتنے دجال سے بچنے کا

کہف پڑھا تو اصحاب کہف کو بچتے دیکھا

وہ بچتے ہے جو تھامتے ہے اللہ کو دل سے

وہ بگڑتے ہے جو تھا متے ہے اللہ کو زبان سے

کہف میں دیکھلے دولت کسے کہتے ہیں

صدیوں کے بعد بھی دینار و درہم چلتے تھے

دجال سے بچنے کا ایک اور نام ہے باقی

اُستاد موسیٰ تھا وہ نامے خضر تھا جو

خضر سیکھاتے ہے صبر سے حا صلے علم ہے

پر موسیٰ نہ سمجھ سکے خضرے علم کیا ہے

یہ جو آج کا دور ہے بڑا ہی عجیب دور ہے

جو دکھتا ہے وہ نہیں ہے، جو ہے وہ دکھتا نہیں ہے

دلے نور کی خاص ضرورت ہے اِس دور میں

دورے دجال سے بچنے کا تعویذ ہی یہی ہے

نور سے ہی پڑھے گا اسکے ماتھے سے تو کافر

پڑھے گا تو چاہے , تو ہو کاتب یا تو غیر کاتب

ابھی تو نہ آیا پر تير ا سایہ آچکا ہے

.بے حیائی،سود،قومیت بھی تو آ چکی ہے

Written in May of 2017